میرا شوہر میری جنت ہے۔
میں شاہد صاحب سے ان کے آفس میں پہلی دفعہ ملی تھی۔ اس وقت میں بیوہ تھی اور اپنے ایک بچے اور والد کے ساتھ رہتی تھی۔ ہمارا ایک مکان تھا جس کو ہم نے کرایہ پر دیا ہوا تھا اور اب جب وہ خالی ہوا تو اس کی مکمل تعمیر نو کروانے کے لئے شاہد صاحب سے جو انجینر ہیں اور کنسٹرکشن کا کام کرتے ہیں رابط ہوا ، ان کا حوالہ میری ایک رشتہ دار نے دیا تھا کہ انتہائی ایماندار اور نفیس انسان ہیں اور میں مطمئن ہو کر ان سے اپنے مکان کی تعمیر نو کروا لوں۔ پہلی نظر میں ہی وہ بہت شریف اور سلجھے انسان دکھائی دیتے تھے ، نظریں جھکائے چپ چاپ سے میری بات توجہ سے سنی اور بہت مناسب دام میں ہمارا کنٹریکٹ طے پا گیا۔ دوران تعمیر ہماری واقفیت بڑھی اور مجھے معلوم پڑا کہ شاہد صاحب شادی شدہ ہیں اور ایک بچے کے باپ بھی ہیں۔ مگر ان کی بیگم میں وہ تمام برائیاں بدرجہ اتم موجود تھیں جو کہ ہماری آج کل کی بہت سی خواتین میں پائی جاتی ہیں، مثال کے طور پر ،شوہر کی بساط سے بڑھ کر ڈیمانڈذ کرنا ، اپنی سجاوٹ میں اتنا مگن ہونا کہ بچے تک کو صحیح توجہ نہ دینا،غیبت، گلہ گزاری،احسان فراموشی ، میکے کی بڑائی کا بیان وغیرہ۔۔یہاں یہ بات واضح رہے کہ شاہد صاحب نے کبھی اپنی بیگم کی برائی نہیں کی یہ سب باتیں ان کے ڈرائیور اور ایک اسسٹنٹ سے سنیں جو کہ ان کے گھر میں ہونے والی باتوں سے اور لڑائیوں سے بخوبی آگاہ تھے۔۔۔۔ شاہد صاحب میں نہ جانے کیا کشش تھی کے میں اپنے دل کی ہر بات ان سے شئیر کرنے لگ گئی، میرے شوہر کی وفات کو چار سال ہو چکے تھے مگر کبھی کسی مرد سے اتنی قربت محسوس نہیں تھی کی ۔اور یہی حال شاہد صاحب کا بھی تھا، مگر چوں کہ ہمارے معاشرے میں دوسری شادی ایک عیب سمجھا جاتا ہے اس لئے وہ دل پر جبر کئے بیٹھے رہے۔، خیر مکان کی تعمیر مکمل ہوئی اور جب وہ آخری ملاقات کے لئے آئے تو میں نے سوچا کہ اس انسان نے خود تو ہمت کرنی نہیں تو میں نے خود ہی انہیں اپنے سے نکاح کرنے کا کہہ دیا ۔۔اب شاہد صاحب اللّٰہ میاں کی گائے ، دین دار سے آدمی تھے تو مجھے دل سے چاہنے کے با وجود اپنے مخصوص انداذ میں سر جھکائے بیٹھے رہے، پھر کہا کہ آپ تو جانتی ہیں کہ میں شادی شدہ ہوں اور اپنی بیوی سے مطمئن ہوں اس لئے کبھی نہیں چاہوں گا کہ آپ کو ایک ایسی خاتون کا طعنہ ملے جو ایک شادی شدہ مرد سے دوسرا نکاح کر کے سوتن بن جائے، اسلام میں تو جائز ہے مگر ہمارے معاشرے کا خاصہ ہے کہ دوسری شادی والی عورت کو برا سمجھا جاتا ہے ۔ میں کہاں ہار ماننے والی تھی ، اور سچ بات یہ ہے کہ شاہد صاحب جیسا مجھے ملنا بھی کہاں تھا، تو میں نے کہا دیکھیں صاحب ، میرا اپنا گھر ہے، بچہ بھی ہے اور والد صاحب ساتھ رہتے ہیں تو آپ بس مجھ سے نکاح کر لیں ، اپنا نام دے دیں، میں آپ کو گارنٹی دیتی ہوں کہ آپ کی زندگی میں کبھی مخل نہیں ہوں گی، انکم میری اپنی ہے، تو اس نان و نفقہ کے سلسلہ میں بھی آپ کو پریشانی کی ضرورت نہیں میں رات بھی رکنے کا نہیں کہوں گی بس مجھے ہفتے میں دو ایک بار مل جایا کیجئے گا اپنا نام دے دیں ہاں موت کے بعد آپ کو میرا ہاتھ پکڑ کر جنت میں میرے ساتھ ہی داخل ہونا ہوگا ، وہاں میرا آپ پر مکمل حق ہوگا۔۔۔۔قصہ مختصر شاہد صاحب نے مجھ سے نکاح کر لیا، اور نکاح کہ چند دن بعد اپنی والدہ اور پہلی بیگم کو میرے بارے بتا دیا، مت پوچھیں میرے پیارے سے شوہر کو کیا کچھ سننا پڑا ، اور میرے کردار اور شخصیت بارے تو وہ وہ باتیں کی گئیں کے رہے رب کا نام، ۔۔۔اب اس بات کو ایک سال ہونے کو آیا ہے، شاہد صاحب میری تعریف کرتے نہیں تھکتے، اور میری بھی پوری کوشش ہوتی ہے کہ اپنے شوہر کو ذرا سی بھی تکلیف نہ ہونے دوں، ان کی رضا میں میری رضا ہے، اور ان کی اطاعت میں میری جنت ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ شاہد صاحب کے چہرے پر اب ایک سکون اور خوشی محسوس ہوتی ہے، جو پہلے کبھی نہ دکھی تھی ۔۔اب تو وہ مجھے اپنے گھر بھی اس عید پر لے گئے تھے، جہاں ان کی بیگم نے تھوڑا سا ناک بھوں تو چڑھایا مگر خاموش رہی، ہاں میں نے ان کو تحفے بھی دئے، اور اپنا اخلاق اتنا اچھا رکھا کی شاہد صاحب کا بیٹا تو میرا دوست بن گیا، اور والدہ نے بھی پوری طرح مجھے قبول کر لیا ہے۔۔۔مجھے اس دنیا میں نفرتیں اور عداوتیں نہیں پالنی، ۔۔۔مجھے تو بس اپنے شوہر کی اطاعت کرنی ہے جس نے مجھ دکھیاری کا ہاتھ تھاما۔۔۔۔۔مگر کچھ لوگوں کی نظر میں میں غلط ہوں، ۔۔۔۔کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ کیا میں نے کچھ غلط کیا؟ کیا ایک عورت دوسری شادی نہیں کر سکتی ، آپ کی رائے کا انتظار رہے گا۔
سچی داستان۔
خاک نشینhttps://youtu.be/8m7PiP6D5Xs
No comments:
Post a Comment